عمران بخاری
بی آر ٹی کے زو کارڈ سے داعش کا نیٹ ورک بے نقاب
25 جون رات دس بجے پولیس کے وائرلیس فون چنگھاڑنے لگےکہ کسی نامعلوم موٹر سائیکل سوار نےایک نوجوان کو لوٹ لیا ہے اور کالے کپڑوں میں ملبوس یہ موٹرسائیکل سوار رنگ روڈ کے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اطلاع تھانہ بھانہ ماڑی کی ابابیل فورس نے بھی سنی اور فوراً ہی الرٹ ہوگئے۔ کہا جائے تواس اطلاع سے پشاور پولیس کی دوڑیں لگ گئیں، صرف ایک راہزنی اور پورے پشاور پولیس کی دوڑیں لگ گئیں؟ دراصل وہ دن تھا ہی ایسا اسی وقت ہی حساس ادارے کے اہلکار قمر مسیح کو فائرنگ سے زخمی کرکے پولیس اور ہمارے اداروں کو چیلنج کیا گیا تھا اور اس واقعہ کی کال بھی چلی تھی۔ پشاور پولیس اور حساس ادارے چوکنے ہو گئے تھے۔
رکیے! شاید اس کہانی کو دوبارہ سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ تو کہانی کچھ یوں ہے کہ جون کے تپتے طویل دن اور مسلسل قتل کی وارداتوں نے پشاور پولیس کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔ کبھی مسیحی برادری تو کبھی سکھ برادری اور کبھی اسلامی سکالرزکو پے درپےنشانہ بنانے کے واقعات نے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشکلات بڑھادیں وہیں شہر کی اقلیتی برادری اورمذہبی حلقوں میں بھی احساس عدم تحفظ بڑھ گیاتھا۔
پشاور میں مختصر عرصہ میں تین سکھ، دو مسیحی، چار اسلامی سکالرز کی ٹارگٹ کلنگ اور تین پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے بعد جب استعمال ہونے والے اسلحے کا فارنزک ٹیسٹ کرایا گیا تو پتا چلا کہ ان تمام وارداتوں میں ایک ہی ہتھیار کا استعمال کیا گیا ہے۔ خود ہمارے اینٹلیجنس ادارے صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے تھے۔ ان جرائم کے پیچھے عام جرائم پیشہ عناصر ہوتے تو کوئی بات بن جاتی لیکن حالات ٹارگٹڈ دشمنی، ذاتی رنجش اور لین دین کے تنازعے میں سے کسی کی طرف اشارہ نہیں کر رہے تھے۔ پھر یہ مجرم کون ہیں؟
پشاور کی انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی شوکت عباس روزانہ بریفننگ لیتے اور کام مزید تیز کرتے لیکن مجال ہے کہ انہیں کوئی سرا ہاتھ لگتا۔ بس یہی رہ گیا تھا کہ صوبائی دارلحکومت کی پوری فورس کو چوکنا کیا جائے۔ جگہ جگہ حساس مقامات پر ناکے بڑھا دیئے گئے۔ ابابیل فورس کو پوری طرح الرٹ کیا گیا تاکہ شہر کی گلیوں تک کو محفوظ بنایا جا سکے۔ کچھ سکون ہوا۔ ایسے میں 25 جون کوبیک وقت دو واقعات ہوئے تو پولیس کی دوڑیں تو لگنی ہی تھیں۔
اسی صورتحال میں جب کال چلی اور تھانہ بھانہ ماڑی پولیس کے ابابیل سکواڈ نے ناکہ بندی کی تو تھوڑی ہی دیر میں کالے کپڑوں میں ملبوس موٹر سائیکل سوار ان کے سامنے تھا۔ پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے پولیس پر فائرنگ کر دی جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جب کہ جوابی کارروائی میں موٹر سائیکل سوار مارا گیا۔ چلتی موٹر سائیکل سے اس موٹرسائیکل سوار کی فائرنگ سے ہی پولیس کو اندازہ ہوا کہ یہ کوئی روایتی راہزن نہیں ہے۔
لاش کی تلاشی لی گئی تو اس کے پاس سے دو موبائل، ایک پستول، ایک افغان سیٹیزن کارڈ اور ایک بی آر ٹی بس میں سفر کا زو کارڈ برآمد ہوا۔ جیب میں موجود کارڈز سے پتا چلا کہ یہ افغانستان کا باشندہ ہے جس کا نام ظفر ہے لیکن جو خالد کا نام بھی استعمال کرتا ہے گویا یہ ظفر المعروف خالد تھا۔ اس کے بعد پولیس نے موبائل کارڈز ٹٹولے تو معلوم ہوا کہ اس میں سمز نہیں ہیں۔ یہ دیکھ کر پولیس اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ مرنے والا کوئی معمولی تخریب کار نہیں تھا بلکہ جدید رابطوں کے فن سے آگاہ کوئی عسکریت پسند تھا۔
ایڈیشنل آئی جی محکمہ انسداد دھشت گردی شوکت عباس اس سارے معاملے کی حساسیت کو جانتے ہوئے خود سارے تفتیشی عمل کی نگرانی کررہے تھے اور وہ اس نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور گرفتار کرنے کے لیے پرعزم تھے شوکت عباس کی سربراہی میں موبائل فون کا جب جائزہ لیا گیا تو علم ہوا کہ یہ فون عموماً دو مقامات ایک پشاور کے مضافاتی علاقے اور دوسرا بی آر ٹی میں مفت وائی فائی سے منسلک کیا جاتا رہا ہے اور جب بھی انٹرنیٹ سے منسلک کیا جاتا تو اس کے لئے بی آرٹی کے نیٹ کا سہارا لیا جاتا رہا۔
پشاور میں بس کے سفر کے لیے استعمال ہونے والا کارڈ عالمی دھشت گرد تنظیم کی ایک شاخ (کتیبہ) کو توڑنے کا سبب بنتا جا رہا تھا۔ ایک عام سا کاغذ اور پلاسٹک کا ٹکڑا ایک شخص کی شناخت بن رہا تھا۔ عموماً عسکریت پسند تنظیموں کے رکن بہر صورت خود کو خفیہ اور بے نام رکھنے کے لیے خود کو ان کاغذوں سے دور رکھتے ہیں جو ان کی شناخت بتائیں لیکن ہر مجرم کوئی نا کوئی ایسی غلطی ضرور کرتا ہے جس سے وہ پکڑا جاتا ہے۔
جس شخص نے انٹرنیٹ کے معاملے میں اتنی احتیاط برتی کہ موبائل سم تک نہیں رہنے دیا ایک زو کارڈ سے سی ٹی ڈی کو اپنے پیچھے لگے سینکڑوں کیمروں تک لے گیا۔ دوسری جانب پستول کی فارنزک رپورٹ آ گئی۔ یہ وہی پستول تھی جس سے اقلیتی برادری سمیت سارے قتل کیے گئے اور جس کی ذمہ داری بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیم داعش نے لی تھی۔
داعش کا ایک کامیاب کتیبہ جو متعدد ٹارگٹ کلنگز اور وارداتوں میں ملوث تھا بی آر ٹی کارڈ کی وجہ سے ٹریس ہوا اور اس عالمی دھشت گرد تنظیم کے خدووخال جاننے میں مددگار ثابت ہوا۔ داعش جو کہ دولت اسلامیہ عراق و شام کا مخفف اور عالمی دھشت گرد تنظیم گردانی جاتی ہے کا دائرہ کار اب شام اور عراق کے علاوہ بھی درجنوں دیگر ممالک میں پھیل چکا ہے اور پاکستان اور خیبر پختونخوا تو خصوصی طور پر اس تنظیم کے حملوں کی ذد میں ہے۔ یہاں اس کے لیے دولت اسلامیہ فی ولایت خراسان یا آئی ایس کے پی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اس عسکریت پسندتنظیم کی شاخیں جابجا پھیلی ہوئی ہیں اور انہیں کاٹنا نسبتاًدشوار سمجھا جاتا تھا جب تک حالیہ دنوں میں اس کے ایک کتیبے کا سراغ نہیں لگا تھا۔
پشاور میں سرگرم ایک شاخ یا کتیبہ نے مختصر عرصے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل پریشان کیے رکھا۔ اس زو کارڈ نے پولیس کو ظفر کی ساری نقل وحرکت بتا دی۔ پولیس نے واردات کے دوران عینی شاہدین کو بلا کر ظفر کی وڈیوز دکھائیں تو انہوں نے تصدیق کی کہ یہی شخص مختلف وارداتوں میں دیکھا گیا ہے۔ لیکن ایک بار پھر سی ٹی ڈی بند گلی میں پہنچ چکی تھی۔ وڈیوز میں ان کے ساتھیوں کا تو پتا نہیں چل رہا تھا۔
ظاہری بات ہے وہ اکیلا تو تھا نہیں تو پھر اس کے اور ساتھی کون تھے؟ اس سوال کا جواب صحرا میں سوئی کی تلاش کے مترادف تھا۔ پولیس نے ایک بار پھر موبائل کو کھنگالنا شروع کیا۔ تفتیش کاروں نے موبائل فون کی آئی ایم ای آئی کے ذریعے ایک نمبر کا سراغ لگایا لیکن جب اس نمبر کا جائزہ لیا گیا تو وہ نمبر بند تھا لیکن اس دوران وہ نمبر جس فون میں استعمال ہوا تھا اس میں دوسری سم کا سراغ لگا لیا گیا اور تفتیش کاروں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔
جب کارروائی کی گئی تو وہ موبائل فون ایک کم عمر لڑکی کے استعمال میں تھا جسے اس کے ایک دوست نے وہ فون رابطے کے لیے دیا ہوا تھا تفتیش پھر ٹھپ ہوئی لیکن امید باقی تھی۔ دوبارہ ٹیموں کی تشکیل کی گئی اور اس دوست کا سراغ لگا کر جب اس تک پہنچا گیا تو وہ ایک معذور پی سی او والا نکلا جس نے بتایا کہ یہ موبائل اس نے ایک شخص کو فروخت کر دیا تھا۔ یہاں دوبارہ پولیس کو تمام راستے بند ملے۔
لیکن جیسا کہ ذکر کیا گیاچالاک سے چالاک مجرم بھی کوئی نا کوئی سراغ چھوڑ ہی جاتا ہے اور یہاں بھی مجرم سے غلطی ہوئی تھی کہ موبائل فون تو فروخت کیا تھا لیکن ساتھ ہی اسی دکان سے دوسرا فون بھی خریدا تھا جس کے بعد دوبارہ ایک لمبا پراسس شروع ہوا جو داعش کے اس مقامی کتیبے کے سربراہ امین اللہ کی گرفتاری پر اس طرح تمام ہوا کہ وہ موبائل دراصل امین اللہ نامی شخص نے پی سی او والے سے خریدا تھا.اس طرح امین اللہ اور ظفر کے بیچ میں کڑی مل گئی۔امین اللہ ایک ایسی چابی ثابت ہوا جس سے تقریبا کئی سوالوں کے جوابات ملنا ممکن ہوئے.
امین اللہ کی گرفتاری ایک اہم بریک تھرو تھی۔ لیکن امین اللہ کی زبان کھلوانا آسان نہیں تھا۔ اس دوران اس کے رابطے، اس کا پس منظر، پرانی گرفتاریوں اور نقل وحرکت کی تمام رپورٹوں اور فائلوں کو کھنگالا گیا۔ غرضیکہ ہر قسم کی کوششوں کے بعد حکام یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ ہلاک ملزم ظفر امین اللہ کا داماد اور بھتیجا تھا امین اللہ افغانستان کا رہائشی تھا لیکن باجوڑ کے ڈومیسائل پر شناختی کارڈ بنوا کر پاکستانی شہری بن چکا تھا۔
امین اللہ کا ایک بیٹا بھی آج سے تقریبا دس سال قبل افغانستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا اور ان کے ساتھ گروپ میں شامل دیگر افراد بھی کابل میں طالبان کے ایک حملے میں باگرام جیل ٹوٹنے کے بعد فرار ہوکر پاکستان پہنچے تھے۔ امین اللہ کی بیٹی جو داعش کے ہلاک ٹارگٹ کلر ظفر کی بیوی تھی کو کچھ عرصہ قبل اس کے شوہر نے تین بچوں سمیت افغانستان بھجوادیا تھا۔ امین اللہ سے یہ بھی علم ہوا کہ انہیں اب تک ٹارگٹ کلنگ کے مد میں 83 ہزار افغانی کرنسی ملی جو پاکستانی کرنسی میں دو لاکھ بنتے ہیں جن سے ظفر نے دو پستول اور ایک موٹر سائیکل خریدی۔
آگے بڑھنے سے قبل اگر اسی حوالے سے محکمہ انسداد دھشت گردی کے آفیشل موقف (جو انہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے بیان کیا) کا اگر جائزہ لیا جائے تو کہانی میں جو کمی رہ گئی اس کی بھی تلافی ممکن ہے سی ٹی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شوکت عباس کا کہنا تھا کہ کہ اس کیس میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مزید پیش رفت ہوئی ہے جس سے نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو گرفتار کرنے میں مدد ملے گی.
سی ٹی ڈی اور کیپیٹل سٹی پولیس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ داعش کے ایک بڑے نیٹ ورک کو جو مارچ سے پشاور میں اقلیتوں، پولیس اور مذہبی اسکالرز کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا، کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے اور اس کے اہم رہنما کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس طرح کیپٹل سٹی پولیس آفیسر اشفاق انور نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ پشاور میں تین سکھوں، دو عیسائیوں، چار اسلامی سکالرز کی ٹارگٹ کلنگ اور تین پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے پیچھے اس گروہ کا ہاتھ ہے۔
حکام نے مزید کہا کہ "اس گروہ نے محرم کے دوران بڑی دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ مگر پولیس نے اس سے پہلے ہی ان کا تانا بانا بکھیر دیا انہوں نے مزید کہا کہ مقتول ظفر کے سسر امین اللہ کو مکمل جانچ پڑتال کے بعد گرفتار کیا گیا۔ امین کو نیٹ ورک کا اہم رکن سمجھا جاتا ہے۔امین کا ایک نوجوان بیٹا جو پشاور کے ایک مقامی کالج کا طالب علم تھا، کچھ سال قبل مارا گیا تھا، جب وہ پڑھائی چھوڑنے کے بعد افغانستان چلا گیا تھا۔”حکام نے بتایا کہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلرز ہنڈی کے ذریعے رقم حاصل کرتے تھے ۔آخری منتقلی تقریباً 200,000 پاکستانی روپے کی تھی ۔حکام کا کہنا تھا کہ وہ دیگر لین دین کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ رقم کون بھیج رہا تھا۔ گروہ کے دیگر اراکین کی گرفتاری کے علاوہ رقم کون بھجوا رہا تھا؟کن کن راستوں کا استعمال کیا جارہا تھا؟ یہ سوالات اگرچہ اب بھی جواب طلب ہیں لیکن ایک خفیہ تنظیم کے ایک کامیاب سمجھے جانے والے کتیبہ کا سراغ لگانا اور اس کو توڑنا محکمہ انسداد دھشت گردی حکام کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ اگر کیس کا جائزہ لیا جائے تو داعش کے حوالے سے اس تنظیم کے گرد جو دھواں پھیلا کر اندھیرا کیا گیا تھا سی ٹی ڈی نے اس میں شگاف ڈال دیا ہے اور تنظیم کے خدو خال جاننے میں یہ مددگار ثابت ہوگا۔اس سے قبل یہ تاثر عام تھا کہ داعش کے اراکین ایک دوسرے کی شکل نام مقام نہیں جانتے ساتھ ہی یہ تصور بھی تھا کہ وہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ بھی رابطہ نہیں رکھتے لیکن اس کیس کے حل اور ملزمان کی گرفتاری سے یہ تمام باتیں تقریبا غلط ثابت ہوگئیں۔
چند برس قبل جب داعش کے ایک سرگرم نیٹ ورک کا پولیس نے سراغ لگا کر مقابلے کے بعد خاتمہ کیا تھا تو وہاں سے بھی شواہد ملے تھے کہ داعش کی کارروائیوں میں دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے برعکس خاندان کے دیگر اراکین کے ملوث ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن وہ اتنےمضبوط شواہد نہیں تھے۔ تاہم داعش کے اس ظفر نامی ٹارگٹ کلراور امین اللہ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے بعد اب یہ کہنا آسان ہوگیا ہے کہ داعش دراصل پورے خاندان کو عسکریت پسندی کی طرف مائل کر سکتی ہے۔
امین اللہ کا بیٹا اور اب داماد دونوں داعش کے لیے کام کرتے ہوئے ہلاک ہوئے امین اللہ خود بھی داعش کا سر گرم رکن ہے۔ ان کے ساتھیوں کے متعلق بھی گمان ہے کہ وہ بھی ان کےعلاقےیعنی ننگرہار اور باجوڑ سے ہیں۔ دراصل امین اللہ کا تعلق افغان صوبہ ننگر ہار کے ضلع چپرہار سے ہے اور اس حوالے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
بہت سارے سوالات ہیں جو اب بھی جوابات کے منتظر ہیں۔ کیا پتا وہ جوابات ظفر کے موبائل فون میں ہوں۔ سی ٹی ڈی کے دفتر میں پڑے اس موبائل فون کا 64 جی بی ڈیٹا نا جانے کیا کیا بتانے کو بے تاب ہے لیکن ابھی تک پولیس کو اس تک رسائی نہیں ملی۔ انتظار کیجیئے گا ابھی بہت کچھ بتانا باقی ہے۔