February 25, 2024

Logo

نیوز فلیش : باجوڑ میں تحریک نفاذ شریعت محمدی ( تور پٹکی ): پس منظر ، ابتداء ، جنگ کے نقصانات اور اثرات افغان مہاجرین کی وطن واپسی؛ خدشات اور طالبان حکومت کے اقدامات

امریکہ مخالف جہاد سے خلافت تک : ٹی ٹی پی اور داعش کا تال میل

شائع | July 28,2023

فخر کاکا خیل

امریکہ مخالف جہاد سے خلافت تک : ٹی ٹی پی اور داعش کا تال میلimage
2014 تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی) کے لیے انتظامی لحاظ سے کافی مشکل سال تھا۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی قیادت سوات سے تعلق رکھنے والے فضل حیات المعروف ملا فضل اللہ کے پاس آگئی تھی۔ چونکہ پہلی بار تنظیم کی قیادت قبائل خصوصاً محسود قبائل کے ہاتھ سے نکل چکی تھی اس لیے حلقہ محسود کے نام سے محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے مقامی طالبان نے تحریک طالبان کی چھتری تلے اپنی کارروائیاں شروع کر دیں۔

وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والے شمالی وزیرستان میں پہلے سے ہی حافظ گل بہادر اور جنوبی وزیرستان میں بہاول (وانا میں ملا نزیرکی جگہ مقامی کمانڈر) کی کمانڈ میں علیحدہ شناخت بنائے رکھے تھے۔ درہ آدم خیل کا طارق آفریدی گروپ اس کے مرنے کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور منگل باغ آفریدی نے ننگرہار کے علاقے اچین میں اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھی تھی جب کہ مہمند سے تعلق رکھنے والا عبدالولی المعروف عمر خالد خراسانی اگست 2014 میں جماعت الاحرار کی بنیاد رکھ کر ٹی ٹی پی سے دوری اختیار کر چکا تھا۔

نئے پلیٹ فارم کی ابتدائی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ٹی ٹی پی نے ستمبر 2014ء کو عمرخالد خراسانی سمیت احسان اللہ احسان کی برطرفی کا اعلامیہ بھی جاری کردیا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان کے سینئر کمانڈرز اور پرانے جنگجو اس صورتحال سے کافی پریشان تھے۔ بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمٰن محسود جیسے کمانڈروں کے بعد اب سوات سے تعلق رکھنے والی ایک غیرقبائلی قیادت کافی کمزور ثابت ہو رہی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب اورکزئی کے علاقے ماموزئی سے تعلق رکھنے والے حافظ سعیدخان اورکزئی نے بھی ٹی ٹی پی سے راہیں علیحدہ کرنے کا سوچا۔

گو کہ نظریاتی اعتبار سے وہ سلفی تھے اور ملافضل اللہ کے قریب تھے لیکن عمر، دینی علم اور جنگ کے اعتبار سے وہ ملافضل اللہ کے سینئر تھے۔ وہ پاکستان میں خودکش حملوں کے بانی قاری حسین کے بہت قریبی سمجھے جاتے تھے۔ تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ قربت کا یہ عالم تھا کہ وہ مشکل وقت میں حافظ سعیدخان اورکزئی کے پاس ماموزئی میں وقت گزارتے تھے یہاں تک کہ حکیم اللہ محسود نے اپنی دوسری شریک حیات بھی حافظ سعید خان کے گاؤں ماموزئی سے ہی چنی تھی۔

بیت اللہ محسود اور ولی الرحمٰن محسودجو خالص دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے کے برعکس قاری حسین اور حکیم اللہ محسود سلفی نظریات میں شدت سے متاثر تھے۔ لیکن جب یہ دونوں نہیں رہے تو حافظ سعید خان نے بھی ٹی ٹی پی سے راستے الگ کرنے کی ٹھانی۔ یہ وہ وقت تھا جب داعش کے مختلف وفود افغانستان کا دورہ کرتے رہتے تھے۔ ان کا پہلا ہدف تحریک طالبان پاکستان کے سلفی کمانڈرز ہی تھے۔

اس پس منظر میں حافظ سعید خان اورکزئی نے داعش میں شمولیت کا عہد کیا اور خیبرہختونخوا سمیت سابق فاٹا کے جنگجووں اور مقامی کمانڈروں کے ساتھ افغان صوبہ ننگرہار کے علاقے اچین میں اس وقت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کیا اور داعش کا جھنڈا افغانستان میں لہرایا۔ اس طرح افغانستان میں داعش کا باقاعدہ جنم تحریک طالبان پاکستان کے بطن سے ہوا۔

لیکن کیا یہ سب کچھ ایسے ہی ہوا؟ دراصل دس اکتوبر 2014ء کو تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نام نہاد خلیفہ ابوبکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کی وڈیو جاری کی تو اس میں اورکزئی سے حافظ سعید خان، کرم سے دولت خان، خیبر سے فاتح گل زمان، پشاور سے مفتی حسن سواتی اور ہنگو سے خالد منصور نے تحریک طالبان پاکستان چھوڑ کر داعش کے امارت کی بیعت لی۔ لیکن یہاں تک پہنچنے کی ایک طویل داستان ہے جس کا تعلق نظریات سے بھی ہے اور اسی کے اثرات آج افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کا پیچھا کر رہے ہیں۔

حافظ سعید خان کا اس کہانی میں آغاز اس وقت ہوا جب خود داعش کی موجودہ شکل بنی بھی نہیں تھی۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ القاعدہ نے پاکستان سے جنگجو شام میں شامی صدر بشار الاسد کے خلاف جہاد کے لیے مانگے۔ اس پر حقانی نیٹ ورک کے میران شاہ شوری کے رکن عزیزاللہ حقانی اور تحریک طالبان پاکستان سے حافظ سعید خان نے اپنے جنگجو چودہ جولائی 2012ء کو شام بھیجے۔ وہاں ان کے رابطوں کی بنیاد براہ راست شام کے جہادی دھڑوں سے پڑی۔ شام جانے والوں میں ایک سلفی جہادی شیخ محسن بھی تھے۔ جن کا تعلق افغان صوبہ کنڑ سے تھا۔

ان کے ہی ایک ساتھی سلفی جہادی ننگرہار سے تعلق رکھنے والے عبدالرحیم مسلم دوست بھی تھے۔ عبدالرحیم مسلم دوست گیارہ ستمبر کے بعد گرفتار ہو کر گوانتانامو بے میں جیل گزار چکے تھے۔ عبدالرحیم مسلم دوست کا شمار افغان جہاد کے دوران پاکستان افغانستان کے ابتدائی سلفی مجاہدین میں ہوتا ہے۔ مسلم دوست دراصل شیخ جمیل الرحمن کے قریبی ساتھی تھے۔ شیخ جمیل الرحمٰن اس خطے کی وہ شخصیت تھے جس نے افغان مجاہدین پر نا صرف کفر کا فتوہ لگایا بلکہ حزب اسلامی کے گلبدین حکمتیار کے خلاف باقاعدہ لڑے۔

گوانتانامو بے کے ایک اور قیدی ہلمند سے تعلق رکھنے والے عبد الرؤف خادم جو پہلے افغان طالبان کی کوئٹہ شوری میں تھے قید کے دوران بقول افغان طالبان ذرائع سلفی عقائد سے متاثر ہوئے اس لیے اس کا دیوبندی مکتبہ فکر کے ساتھ چلنا ناممکن تھا اس لیے وہ بھی عبدالرحیم مسلم دوست کے ساتھ رابطوں میں آئے۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر سلفی جہادی نظریاتی جماعت کا خیال ان لوگوں کے ذہنوں میں آیا اور یوں عبد الرحیم مسلم دوست نے تحریک خلافت خراسان کے نام سے 2014ء میں کھل کر ایک جماعت بنائی۔

اس میں طالبان پشاور شوریٰ کے رکن فاروق صافی بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ دراصل ان کو شدید سلفی نظریات کے باعث طالبان نے 2013ء میں ہی تنظیم سے نکال دیا تھا۔ لیکن کچھ ہی ہفتوں بعد اس کے اپنے ہی گروہ کے مولوی نصرت اللہ پوپلزئی کے ساتھ اختلافات کی بنا پراس نے تحریک خلافت افغان کے نام سے عبد الرؤف خادم اور لوگر سے تعلق رکھنے والے سابق افغان طالبان سلفی کمانڈر سعد اماراتی کے ساتھ مل کر نیا پلیٹ فارم بنایا۔ ان کی دیکھا دیکھی پاکستان کے سلفی جہادی کمانڈروں اور جنگجووں (جس میں ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ اور لشکر جھنگوی کے جنگجو بھی شامل تھے) نے مل کر چودہ اگست 2014ء کو تحریک خلافت پاکستان کی بنیاد رکھی۔

ٹی ٹی پی کے وہ جنگجو اور کمانڈرز جو ملافضل اللہ کی کمان کے نیچے لڑنے کے لیے تیار نہیں تھے ان میں سے کافی لوگ ادھر آگئے۔ ان میں باجوڑ کے سلفی جہادی کمانڈر ابوبکر کے علاوہ وزیرستان کے عبدالبہار محسود، عبیداللہ البشاوری، ابو سعد اورکزئی، حافظ دولت خان، مفتی حسن سواتی، فاتح گل زمان، خالد منصور، شاہداللہ شاہد اور عمرمنصور جیسے ٹی ٹی پی کے سلفی کمانڈر مل گئے تھے۔ یہ "خلافت” کا لفظ کافی فیشن میں آگیا تھا 2014ء میں یہاں تک کہ ابوحفص البلوچی نے حرکت خلافت بلوچستان کے نام سے اپنی ایک تنظیم بنا لی تھی۔ اگست 2014ء میں ہی افغانستان میں جنود خراسان اور احرارالہند نامی چھوٹی چھوٹی تنظیمیں ٹی ٹی پی کے جنگجووں یہاں تک کہ افغان صوبہ کنڑ میں عبدالولی المعروف عمرخراسانی سے رابطے کر رہی تھی لیکن اس نے اگست 2014ء میں ہی جماعت الاحرار کے نام سے ایک علیٰحدہ شناخت پر توقف کیا اور اس وجہ سے فضل اللہ نے ٹی ٹی پی سے اس کے اخراج کا بیان جاری کیا۔ اکتوبر 2014ء میں عمرخالد خراسانی نے "احیائے خلافت” کے نام سے اپنا جریدہ بھی نکالا۔ اس وقت جماعت الاحرار کے سرپرست کی حیثیت سے مولانا قاسم کا نام بھی آیا تاہم بعد ازاں وہ پس منظر میں چلے گئے۔

اس ساری صورتحال پر افغان صوبہ بغلان سے تعلق رکھنے والے قاری ولی الرحمان کی نظر تھی۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ 2012ء سے افغانستان اور پاکستان کے جہادی جنگجووں کا شام آنا جانا شروع ہوا۔ اسی دوران قاری ولی الرحمٰن کا تعلق الشیشانی اور ابوبکر البغدادی سے بنا اور الشیشانی نے ہی اپریل 2014ء میں قاری ولی الرحمن کو افغانستان کا ٹاسک سونپا۔ جون 2014ء میں جب ابوبکرالبغدادی نے خلافت کا اعلان کیا تب قاری ولی الرحمٰن کے رابطوں میں بھی تیزی آئی۔ اگست 2014ء تک وہ لگ بھگ تمام سلفی جہادی کمانڈروں سے مل چکے تھے۔ یہاں تک کہ حقانی نیٹ ورک میران شاہ شوری کے رہنما عزیزاللہ حقانی تک کو اس نے رام کر دیا تھا۔

یہ عزیزاللہ حقانی ہی تھے کہ جس نے حقانی نیٹ ورک میں رہ کر داعش کے ساتھ رابطے بحال رکھے۔ قاری ولی الرحمٰن جون 2015ء تک افغانستان میں ابوبکر البغدادی کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے سرگرم رہے۔ اس طرح تحریک خلافت خراسان، تحریک خلافت افغانستان اور تحریک خلافت پاکستان کے مختلف عناصر کو ملاتے ہوئے دس اکتوبر 2014ء کو حافظ سعید خان اورکزئی سمیت ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈروں کی بیعت والی وڈیو جاری ہوئی ۔ اس کے بعد 26 جنوری 2015ء کو داعش کے مرکزی ترجمان ابومحمدالعدنانی نے ولایت خراسان کے نام سے دولت اسلامیہ عراق و فی شام (داعش) کے صوبے کا اعلان کیا۔ اس طرح ٹی ٹی پی کے ہی بطن سے داعش کا جنم ہوا۔ جس طرح ماضی میں افغان جہاد کے بعد مجاہدین کے بطن سے طالبان کا جنم ہوا تھا۔

نظریات اور ٹی ٹی پی کے عناصر کی داعش میں شمولیت:
لگ بھگ یہی صورتحال 1980ء کی دہائی کے آخر میں بھی تھی۔ روس کا افغانستان سے انخلاء ہو چکا تھا۔ حزب اسلامی کے جہادی کمانڈر شیخ جمیل الرحمٰن جس نے جماعت الدعوہ والقرآن کے نام سے 1986ء میں ہی علیحدہ تنظیم بنا لی تھی کا یہ ماننا تھا کہ روسی انخلاء کے بعد اب افغانستان میں ایک سلفی عقائد کی بنیاد پر ایک خالص شرعی حکومت قائم کی جائے۔ چونکہ افغانستان کی اکثریت حنفی دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی تھی اس لیے زیادہ تر جہادی تنظیموں نے اس خیال کی مخالفت شروع کی۔

اس بنیادی خیال کو جامہ پہنانے کے لیے خلیجی ریاستوں نے اپنے فنڈز کا رخ بھی شیخ جمیل الرحمٰن کی طرف موڑ لیاتھا۔ اس سے خود حزب اسلامی کی لیڈر شپ ان سے ناراض ہو گئی تھی لیکن اب روسی انخلاء کے بعد سوال یہ تھا کہ افغانستان کو کس طرح آگے چلایا جائے گا۔ تب 1990ء کو کنڑ میں شیخ جمیل الرحمٰن نے امارت اسلامی فی کنڑ کے نام سے ایک سلفی ریاست قائم کی۔ شروع میں حزب اسلامی کو بھی اس میں شریک رکھا گیا لیکن جلد ہی یہ بندوبست ناکام ہو گیا اور حزب اسلامی نے اس ریاست پر حملہ کردیا۔ شیخ جمیل الرحمٰن نے باجوڑ میں پناہ لی لیکن یہاں پر بھی اسے زندہ نہیں رہنے دیا گیا اور اگست 1991ء کو انہیں قتل کر دیا گیا۔

پندرہ اگست 2021ء کو جب طالبان نے افغانستان میں حکومت قائم کی تب ماضی کے انہی تجربات کو دیکھتے ہوئے داعش کے شبہ میں سلفی مکتبہ فکر کے لیے زمین تنگ کر دی گئی۔ افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں بھی ٹی ٹی پی کے وہ کمانڈرز جو سلفی عقائد اور لشکر خراسان، غزوہ ہند اور عالمگیر خلافت پر یقین رکھتے تھے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ جب تک پاکستان میں خلافت کا نظام قائم نہیں ہوجاتا حکومت کے ساتھ معاہدہ اس مقصد کے لیے جان دینے والوں کے ساتھ غداری ہو گی۔ اس نقطہ نظر کے حامی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے عبدالولی المعروف عمر خالد اور ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے فقیر محمد تھے۔ ان کو مطمئن کرنے کے لیے خیبرپختونخوا میں پنج پیرمکتبہ فکر کے جید عالم مولانا طیب تک کو کابل لے جایا گیا لیکن وہ بھی ان کی رضامندی لینے میں ناکام رہے۔

اب کی صورتحال:
یہی وہ بنیادی نقطہ ہے کہ جس میں ٹی ٹی پی کے کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ امریکی اتحادی انخلاء کے بعد اب امریکہ مخالف جہاد کا وجود ہی نہیں رہا اس لیے سیاسی لحاظ سے شریعت کے نفاذ کی کوششیں کی جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اکثریت حنفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ جب کہ کچھ جنگجو اور کمانڈرز سرحد کے آر پار ایسے ہیں کہ جو جمہوریت کو سراسر کفر مانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ لشکرخراسان، غزوہ ہند اور خلافت کے قیام تک جہاد ضروری ہے۔ یہ سرحدوں پر یقین نہیں رکھتے اس لیے خود افغان طالبان کے لیے ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔

عالمی ایجنڈہ رکھنے کے باعث ان کی اپیل بھی زیادہ مؤثر نظر آ رہی ہے۔ افغانستان میں موجود ذرائع کا ماننا ہے کہ پہلے یہ خیال کیا جاتا رہا کہ ٹی ٹی پی کے سلفی جہادی داعش کی طرف جائیں گے لیکن اب جگہ جگہ یہ نظر آ رہا ہے کہ داعش کے جنگجو تو تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے داعش کے خلاف مسلسل آپریشنز ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان میں پناہ لینے سے ان کو وقتی ہی سہی لیکن کسی حد تک ریلیف مل جاتا ہے اور پاکستان کی شکل میں ان کو ایک مضبوط ٹارگٹ بھی مل جاتا ہے۔